گوہاٹی، 24 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آسام کے گورنر جگدیش مکھی نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لئے قومی شہری رجسٹر (این آرسی) کی قواعد کے نتیجے ریاست میں بنگلہ دیشیوں کی تازہ دراندازی پر مکمل طور پر روک لگ گئی ہے۔مکھی نے کہا کہ مرکز بنگلہ دیش کے ساتھ آسام کی زمینی ۔سر حد کو مکمل طور پر سیل کرنے پر کام میں تیزی لا رہا ہے اور سرحد کے دریا والے حصے کو بھی جلد ہی الیکٹرانک نگرانی میں لایا جائے گا۔اس سے ملک میں کسی بھی غیر قانونی داخلے پر روک لگے گی۔مکھی نے کہاکہ این آرسی کے سبب بنگلہ دیش سے غیر قانونی داخلے مکمل طور پر رک لگ گئی ہے۔یہ این آرسی عمل کی سب سے بڑی کامیابی ہے،حکومت آسام میں رہ رہے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کو مصروف عمل ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں آسام نے این آرسی کا ایک ڈرافٹ جاری کیا تھا۔اس فہرست میں تقریبا 40 لاکھ لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا جس سے اس شمال مشرقی ریاست کے کئی حصوں میں وسیع مظاہرے ہوئے ہیں،تاہم حکام نے ایک عمل شروع کیا ہے جس کے تحت ان لوگوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کا ایک موقع دیا گیا جنہیں این آرسی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔آسام کے باشندوں کو اپنے نام این آرسی میں شامل کرنے کے لئے کچھ مخصوص دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1971 کی جنگ کے دوران لاکھوں لوگ بھاگ کر بنگلہ دیش سے آسام آگئے اور یہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ہند۔بنگلہ دیش کی سرحد سے بنگلہ دیشیوں کی دراندازی 1980 کی دہائی سے ہی آسام کے لئے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے جب ریاست میں ایک وسیع طلبہ تحریک ہوئی تھی جس میں مظاہرین نے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔گورنر نے کہاکہ این آرسی کی قواعد کے بعد کسی بھی غیر قانونی بنگلہ دیشی کے لئے (ہندوستانی) شہریت حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا،غیر ملکیوں کی شناخت ہو چکی ہے،یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
بنگلہ دیش کے ساتھ آسام کی سر حد کو سیل کرنے کے این ڈی اے حکومت کے وعدے پر مکھی نے کہا کہ تقریبا 93 فیصد سرحد پر پہلے ہی باڑ لگائی جا چکی ہے اور باقی حصے پر کام تیز رفتار سے ہو رہا ہے۔ہندوستان کی بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد میں سے 263 کلو میٹر کی حد آسام کے ساتھ لگتی ہے جس دریا کے علاقے کی سر حد بھی شامل ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ این آرسی عمل میں شناخت کئے گئے غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے ساتھ کیا ہو گا، مکھی نے کوئی واضح جواب نہیں دیا لیکن یہ اشارہ دیا کہ ان میں سے کچھ کو واپس بھیجا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں ہندوستان میں غیر قانونی داخلے کے خلاف سخت پیغام دیا جا سکے،آسام کے گورنر نے متنازعہ شہریت ترمیم بل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔